اخلاقیات کی تعلیم پر کے سی آر کا زور

Jabri Irfan

دینی اداروں اور مدرسوں میں برسہا برس سے اخلاقیات کی تعلیم دی جارہی ہے۔ یہ مضامین کا لازمی جز ہوتا ہے۔ دسویں جماعت تک مسلم بچے اخلاقیات بطور مضمون پڑھتے رہے ہیں، جس کا فائدہ انھیں زندگی بھر ملتا رہتا ہے۔ آج خوشی ہوئی کہ چیف منسٹر تلنگانہ کلواکنٹلا چندرشیکھر راو نے اخلاقیات کی تعلیم پر زور دیا اور کہا کہ آئندہ تعلیمی سال سے ریاستی حکومت سماج میں اخلاقی اقدار کے فروغ کیلئے تعلیمی نصاب میں اخلاقیات کو شامل کرے گی۔ اس سلسلہ میں انھوں نے سابق ڈی جی پیز پر مشتمل کمیٹی کے تقرر کا اعلان کیا، جس سے حکومت مشورے اور تجاویز طلب کرے گی۔

چیف منسٹر کے سی آر نے غیرمنقسم آندھرا پردیش کے (ریٹائرڈ) ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایچ جے دورا کی خودنوشت کی رسم اجراءتقریب کے موقع پر خطاب میں کہا کہ موجودہ سماج میں بڑھتے جرائم کو دیکھ کر تشویش ہوتی ہے۔ بعض واقعات میں تو انسان حیوانوں جیسا سلوک کرنے لگے ہیں جو نہایت فکرمندی کی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانوں بالخصوص بڑھتی عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنیت مہذب سماج کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ ورنہ آنے والی نسلوں کیلئے مزید برے حالات پیدا ہوجائیں گے۔

چیف منسٹر تلنگانہ نے واقعی بہت اہم موضوع پر اظہار خیال کیا ہے۔ اگر ان کی حکومت آئندہ تعلیمی سال سے وعدے کے مطابق اخلاقیات کی تعلیم اسکولس میں شروع کرانے میں کامیاب ہوپاتی ہے تو یہ موجودہ سماج کیلئے کسی نعمت سے کم نہ ہوگا۔ آج کی نسل خاص طور پر لڑکے اور نوجوان بلکہ کئی مقامات پر ادھیڑ عمر کے لوگ اور بوڑھے بھی لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف جنسی جرائم میں ملوث ہورہے ہیں۔ کیا شمال کیا جنوب‘ کیا مشرق کیا مغرب ہندوستان کے طول و عرض میں فیمیلس کے خلاف گھناونے جرائم پیش آرہے ہیں جن کا سدباب ناگزیر ہے۔

سماج میں موجودہ طور پر اخلاقی پستی کی وجوہات میں بے شک اسکولس سے اخلاقیات کی تعلیم ختم ہوجانا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ماڈرن ٹکنالوجی پر مبنی چیزیں جیسے موبائل فون، اسمارٹ فون، انٹرنٹ، گھٹتے معیار کی فلمیں اور ٹی وی پروگرامس بھی اہم وجہ ہیں۔ ماں باپ اور سرپرست لوگ بچوں کو ان خرابیوں سے دور رکھنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ اگر ہم اسمارٹ فونس، انٹرنٹ، غیرمعیاری فلموں سے بچوں کو دور رکھنے اور نوجوانوں کو ان سے بچنے کی ترغیب دینے میں کامیاب ہوجائیں گے تو کچھ عجب نہیں کہ ہمارے سماج میں مثبت تبدیلی آئے گی۔
٭٭٭

Find Out More:

Related Articles: