-----احسان ترا ہوگا مجھ پر

Jabri Irfan

یہ مختصر تحریر صرف شادی شدہ قارئین کیلئے ہے۔ غیرشادی شدہ لوگوں کیلئے اسے دیکھنا یا پڑھنا گناہ یا منع نہیں، اس لئے کہا کہ شاید یہ ان کیلئے بوریت کا سبب بنے گی۔ میں سمجھتا ہوں ہم سب کے خالق نے ’شادی‘ جیسا کوئی ’نازک‘ انسانی رشتہ نہیں بنایا۔ دو اجنبی (اکثر وبیشتر) اور مخالف جنس افراد کا غیرمعینہ مدت کیلئے شادی کے معاہدے میں بندھ کر ایک دوسرے کیلئے اپنا سب کچھ وقف کردینا بجائے خود کرشمہ ہے۔ شادی انسانوں کی نہایت اہم ضروریات میں سے ہے لیکن سماج میں بڑی بڑی عمریں رہنے کے باوجود مجرد، کنوارے یا غیرشادی شدہ شخصیت کی حیثیت سے اِس دنیا سے رخصت ہونے والوں کو بھی دیکھا گیا ہے۔ غیرشادی شدہ رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ متعلقہ فرد کا مخالف جنس سے کوئی ربط ہی نہیں رہا یا رہتا ہے (ہا ہا ہا)۔

 

شادی کے تعلق سے عام بول چال میں ایک ریمارک معروف ہے کہ شادی نہ کریں تو پچھتاوا ہوتا ہے، لیکن کریں تو بھی پچھتاوا ہوتا ہے (ہا ہا ہا)۔ ان باتوں سے قطع نظر سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ ہر بالغ، عاقل اور خودمکتفی فرد کو ضرور شادی کرنا چاہئے۔ ہاں، یہ بات طے ہے کہ شادی ”پیچیدہ بندھن“ ہے، اس میں کسی نہ کسی قسم کے مسائل ضرور آئیں گے۔ تاہم، زندگی کا ایسا کون سا شعبہ ہے جہاں انسان کو کچھ مسئلہ پیش نہیں آتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسئلہ یا مسائل تو زندگی کا حصہ ہیں۔ اس سے کوئی فرد فرار اختیار کرے اور سمجھے کہ اس کی زندگی آسانی سے کٹ جائے گی تو اس کی بے وقوفی ہے۔

 

سماج میں عام طور پر دو طرح سے شادیاں ہوتی ہیں۔ کسی نوجوان کی شادی اس کے گھر کے بڑے بزرگ طے کرتے ہیں۔ یعنی اسے تمام متعلقین کی سرپرستی حاصل رہتی ہے۔ ایسی شادیاں زیادہ تر کامیاب و دیرپا ثابت ہوتی ہیں۔ دوسرا طریقہ، پسند کی شادی کا ہے۔ جدید اور بدلتے دور میں لڑکا اور لڑکی کے درمیان چاہے وہ ایک ہی طبقہ، فرقہ حتیٰ کہ مذہب سے کیوں نہ تعلق رکھتے ہوں، عشق و محبت اس حد تک آگے بڑھتا ہے کہ شادی کا منطقی انجام نکلتا ہے۔ یہ کورٹ میریج ہوسکتی ہے یا ”لوو ۔ اَرینجڈ میریج“ ۔ پسند کی شادی گناہ نہیں۔ تاہم، یہ کچے ذہن کا فیصلہ ہوتا ہے۔ جذباتی فیصلہ ہوتا ہے۔ آنے والا وقت اس کو اکثر و بیشتر متاثر کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی شادیاں اکثر ٹوٹ جاتی ہیں۔ 

 

میرا ماننا ہے کہ شادی کوئی بھی طرز کی ہو، جب تک فریقین اپنے اِزدواجی رشتے کو سنبھال کر آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں ہوتے، زندگی کا کامیابی سے آگے بڑھنا محال ہے۔ شوہر کی اہمیت اپنی جگہ، بیوی کی بھی لگ بھگ مساوی اہمیت ہوتی ہے۔ دونوں کے مساوی حقوق ہیں۔ بس درجہ کے اعتبار سے ”انیس بیس کا فرق“ ہوتا ہے۔ اس لئے دونوں کو نرم گرم رہتے ہوئے اپنے رشتے کو نبھانا اور اولاد کیلئے نمونہ بننا چاہئے۔ مجھے 1961 کی بہت مشہور فلم ”جنگلی“ کا دل کو چھولینے والا گیت یاد آرہا ہے : احسان ترا ہوگا مجھ پر ۔۔۔۔۔ مجھے پلکوں کی چھاوں میں رہنے دو۔ موسیقار جوڑی شنکر جئے کشن کی دھن پر حسرت جئے پوری کے بول کو فلمساز و ہدایت کار سبودھ مکرجی نے فلم میں دو موقعوں پر فلمایا۔ محمد رفیع نے شمی کپور کیلئے اور لتا منگیشکر نے سائرہ بانو کیلئے آواز دی۔
٭٭٭

Find Out More:

Related Articles: